22 اکتوبر 2011 - 20:30

امریکہ نے ایران پر یہ الزام لگا کر کہ ، ایران نے واشنگٹن میں تعینات سعودی عرب کے سفیر کے قتل کوشش کی ہے ، ایران کے خلاف جو پروپیگنڈہ مہم شروع کر رکھی ہے اس کے بارے میں بہت سے ابہامات پاۓ جاتے ہیں۔

ابنا: سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جو نیا سناریو تیار کیا ہے وہ ایک بے بنیاد دعوی ہے ۔ اور اس کے بارے میں متعدد سوالات جنم لے رہے  ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس طرح کے اقدام کا ایران کو  سیاسی یا سیکورٹی کے اعتبار سے کیا فائدہ ہے؟ سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ اس سناریو کو تیار کرنے والوں نے اصل مسئلے کا مشکوک ہونا تو درکنار اس سناریو کے تضادات اور بدیہی اور واضح چیزوں کو بھی مد نظر نہیں رکھا۔ یہ دعوی منشیات کی اسمگلنگ کا دھندہ کرنے والے افراد کے گمان کی بنیاد پر کیا گيا ہے اور اس کا بھی کوئي ثبوت پیش نہیں کیا گيا ہے۔ اس کے باوجود امریکی حکام نے اپنی رپورٹ کا دفاع کرتے ہوۓ عدالت کے فیصلے سے بھی قبل عدالت کی جانب سے ایران کے خلاف فیصلہ سناۓ جانے کا اعلان کردیا ہے۔ یورپ سے وابستہ سیاسی حلقوں اور ذرائع ابلاغ نے بھی امریکی حکام کے یکطرفہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوۓ دعوی کیا ہےکہ امریکہ نے ایران کے خلاف معتبر ثبوت و شواہد پیش کۓ ہیں۔ خطے کے بعض سیاسی حلقوں نے اس مسئلے کا ربط بحرین کے داخلی امور سے ملاتے ہوۓ دعوی کیا ہے کہ ایران کا مقصد بحرین تھا۔ یہ بے بنیاد دعوے ایسی حالت میں کۓ جارہے ہیں کہ جب امریکہ ایران اور خطے کے ممالک کے تعلقات کو بگاڑنے کی بھر پور کوشش کررہا ہے ۔ اور اس مقصد کے حصول کے لۓ اس نے چند امور کو اپنے ایجنڈے میں شامل کررکھا ہے۔ جن میں سے ایک یہ ہےکہ وہ ایران فوبیا کی بنیاد پر خطے کے ممالک کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہا ہے کہ ایران خطے کے عرب ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کرتا ہے۔ امریکہ نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں بھی یہی طریقۂ کار اختیار کیا ہے۔ ایک جانب امریکہ نے ایران کے خلاف پروپیگنڈہ مہم شروع کررکھی ہے تو دوسری جانب اس نے سعودی عرب کو یمن اور بحرین کے مسائل اور ان ممالک میں جاری عوامی تحریکوں کو کچلنے میں الجھا دیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے امریکہ کے ٹی وی چینل سی این این کو حال ہی میں انٹرویو دیتے ہوۓ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات خراب کرنے کو خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہوۓ ملت ایران کے خلاف امریکہ کے بے بنیاد دعووں کے محرکات کی وجوہات کا پتہ لگاۓ جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ امریکی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے ملت ایران کے خلاف مخاصمانہ رویہ اختیار کیا ہے ۔ اور اس دشمنی کی وجہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی اور خطے کی بعض حکومتوں کے ساتھ اربوں ڈالر مالیت کے اسلحے کے سمجھوتوں کا طے پانا ہے کیونکہ امریکہ اختلافات ڈالنے اور کسی ملک کو خطرہ ظاہر کۓ بغیر اپنے ہتھیار فروخت نہیں کرسکتا ہے۔.......... /169